اندھیرے کا راز
رات کی تاریکی میں، طوفانی ہوائیں درختوں کی شاخوں کو جھنجھوڑ رہی تھیں۔ گاؤں کے باہر ایک پرانی، ویران حویلی کھڑی تھی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں کوئی داخل ہو کر واپس نہیں آیا۔ لیکن ریحان، جو ہمیشہ سچ جاننے کا خواہشمند تھا، اس رات حویلی کی حقیقت جاننے نکلا۔
جیسے ہی اس نے دروازہ دھکیلا، وہ چرچراتے ہوئے کھل گیا۔ اندر قدم رکھتے ہی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ حویلی کے اندر ہر طرف دھول جمی ہوئی تھی، دیواروں پر پرانی تصویریں اور فرش پر ادھ جلی موم بتیاں بکھری ہوئی تھیں۔ اچانک ایک ہلکی سی سرسراہٹ سنائی دی۔
"کون ہے؟" ریحان نے بلند آواز میں کہا، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ اچانک ایک دروازہ زور سے بند ہوا۔ ریحان کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ حوصلہ جمع کر کے آگے بڑھا۔ سیڑھیوں کے نیچے ایک پرانی الماری نظر آئی، جو آدھی کھلی ہوئی تھی۔
جیسے ہی اس نے الماری کا دروازہ کھولا، اندر ایک پرانا کتابچہ ملا، جس پر گرد جمی ہوئی تھی۔ اس نے جلدی سے صفحات پلٹے اور جیسے جیسے پڑھتا گیا، اس پر خوف اور حیرت طاری ہوتی گئی۔ یہ کتابچہ کسی قدیم دانشور کا لکھا ہوا تھا، جس میں درج تھا:
"زندگی میں سب سے بڑا اندھیرا جہالت ہے۔ جو حقیقت کو نہیں جاننا چاہتا، وہی ہمیشہ خوف میں رہتا ہے۔ حویلی میں کوئی آسیب نہیں، یہ محض لوگوں کے دلوں کا خوف ہے جو اس جگہ کو منحوس سمجھتا ہے۔ جو لوگ لاپتہ ہوئے، وہ دراصل گاؤں چھوڑ کر چلے گئے، لیکن ان کے پیچھے کہانیاں چھوڑ دی گئیں۔"
ریحان نے کتاب بند کی اور مسکرا دیا۔ "تو یہ تھا اندھیرے کا راز!" وہ بولا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ اکثر لوگ بنا تحقیق کے خوف کو سچ مان لیتے ہیں۔ وہ باہر آیا، ہوا اب بھی چل رہی تھی لیکن اب اسے وہ آوازیں پریشان نہیں کر رہی تھیں، کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ خوف صرف ہمارے دماغ کا وہم ہوتا ہے۔
حاصلِ سبق: اندھیرے سے مت ڈرو، حقیقت کو پہچانو۔ خوف صرف تب تک رہتا ہے جب تک تم حقیقت سے ناواقف ہو۔
محبت کا آخری لمحہ
شہر کی تنگ گلیوں میں بسی پرانی حویلی کی کھڑکی سے روشنی چھن رہی تھی۔ اندر، زرمینہ کتاب پڑھ رہی تھی، مگر اس کا دل بےچین تھا۔ باہر گلی میں کھڑا عادل، بےصبری سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترس رہا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے بےحد محبت کرتے تھے، مگر زرمینہ کے والد، نواب شمس الدین، ان کی محبت کے سخت خلاف تھے۔
نواب شمس الدین چاہتے تھے کہ زرمینہ کی شادی اس کے کزن فرحان سے ہو، جو ایک دولت مند مگر مغرور انسان تھا۔ زرمینہ نے لاکھ منتیں کیں، مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔
عادل، جو ایک عام سا نوجوان تھا، زرمینہ کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ایک رات، زرمینہ نے عادل کو خط بھیجا کہ اگر وہ اسے لے کر نہیں گیا، تو وہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائیں گے۔
عادل نے اپنی ساری ہمت جمع کی اور مقررہ رات زرمینہ کے گھر کے باہر پہنچ گیا۔ زرمینہ کھڑکی سے نیچے اُتری، مگر جیسے ہی وہ گلی سے بھاگنے لگے، نواب شمس الدین کے گارڈز نے انہیں دیکھ لیا۔
شور مچ گیا، گولیوں کی آواز گونجنے لگی۔ عادل نے زرمینہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا، مگر قسمت بےوفا نکلی۔ ایک گولی عادل کے سینے میں پیوست ہوگئی۔ زرمینہ چیخ اٹھی، مگر اس کے والد کے چہرے پر رحم نام کی کوئی چیز نہ تھی۔
عادل نے مرتے مرتے زرمینہ کے چہرے کی طرف دیکھا، ایک کمزور مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی، اور پھر اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔ زرمینہ کی چیخیں سن کر سارا محلہ جاگ اٹھا، مگر اس کا دکھ سننے والا کوئی نہ تھا۔
اگلی صبح، جب سورج کی پہلی کرن حویلی پر پڑی، تو زرمینہ کی روح بھی اس بدنصیب دنیا سے پرواز کر چکی تھی۔ کسی نے کہا کہ وہ خود کو عادل کے بغیر جینے کی سزا نہیں دے سکتی تھی، اور کسی نے کہا کہ محبت نے ایک بار پھر قربانی مانگ لی۔
مگر حقیقت یہ تھی کہ دو محبت کرنے والے، ظالم سماج کے ہاتھوں بچھڑ گئے۔
شریف النفس آدمی
اس شریف النفس آدمی نے کہا، "چلے جاؤ یہاں سے، آج کے بعد میرے سامنے نہ آنا!"
لمحہ بھر کے لیے تو میں دہل سا گیا کہ آخر مجھ سے کیا خطا سرزد ہو گئی؟ میری زبان لڑکھڑانے لگی، الفاظ میرا ساتھ چھوڑنے لگے، اور دل میں عجیب سی گھٹن محسوس ہونے لگی۔ میں نے بمشکل خود کو سنبھالا اور التجا بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"لیکن... میں نے کیا کیا؟ آپ مجھ سے ناراض کیوں ہیں؟" میں نے بےبس لہجے میں کہا۔
وہ آدمی، جس کی آنکھوں میں ہمیشہ شفقت کی روشنی رہتی تھی، آج غصے اور دکھ کا امتزاج لیے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ میرے لیے باپ کی مانند تھا، میرا سرپرست، میرا محسن۔ مگر آج اس کی آنکھوں میں میرے لیے وہی اجنبیت تھی جو شاید کسی بےوفا کو دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔
"تم نے مجھے دھوکہ دیا، فہد!" اس نے سختی سے کہا۔
"دھوکہ؟" میں نے حیرانی سے دہرایا۔
"ہاں! تم نے وہی کام کیا جس کا مجھے کبھی گمان تک نہ تھا۔ میں نے تمہیں اپنے بیٹے کی طرح رکھا، تم پر بھروسہ کیا، مگر تم نے..." وہ یکدم خاموش ہوگیا، جیسے الفاظ بھی اس کی تکلیف کے سامنے ہار گئے ہوں۔
میرے دماغ میں ایک طوفان اٹھنے لگا۔ میں نے ایسا کیا کیا تھا جس نے اس عظیم انسان کو اس قدر توڑ کر رکھ دیا؟ میں نے ہر پہلو پر غور کیا، لیکن کوئی ایسی بات یاد نہ آئی جس سے ان کا دل دکھا ہو۔
"خدارا، مجھے بتائیں! میں نے کیا غلطی کی ہے؟" میں تقریباً رو دینے کو تھا۔
اس نے ایک گہری سانس لی اور کہا، "تم نے میری بیٹی کو دھوکہ دیا۔ تم نے اس سے محبت کا وعدہ کیا تھا، مگر پیٹھ پیچھے کسی اور کے ساتھ رشتہ جوڑ لیا!"
یہ سنتے ہی میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ "یہ جھوٹ ہے!" میں چیخا۔
"ثبوت میرے پاس ہیں، فہد!" اس نے ایک کاغذ میری طرف پھینکا۔ میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے اسے اٹھایا۔ یہ ایک تصویر تھی، جس میں میں ایک لڑکی کے ساتھ کھڑا تھا۔
مگر میں نے فوراً پہچان لیا—یہ میری بچپن کی دوست سارہ تھی، جو ایک دن پہلے ہی میرے شہر آئی تھی اور ہم کئی سال بعد ملے تھے۔ تصویر کو دیکھ کر مجھے سمجھ آ گئی کہ کسی نے جان بوجھ کر ہمیں غلط رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔
"یہ غلط فہمی ہے!" میں نے تڑپ کر کہا۔
"بس فہد!" وہ چلائے، "میں مزید کچھ سننا نہیں چاہتا۔ تم نے میری بیٹی کا دل توڑا، اور میرے اعتماد کو بھی۔ چلے جاؤ، اور دوبارہ کبھی واپس مت آنا!"
میں کچھ بولنا چاہتا تھا، اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتا تھا، مگر الفاظ کہیں کھو گئے تھے۔ میں نے ان کی آنکھوں میں وہ فیصلہ دیکھ لیا تھا جو بدل نہیں سکتا تھا۔ میں نے ایک آخری بار ان کے چہرے کو دیکھا، اور پھر بوجھل قدموں کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھا۔
میری محبت اور میرا خلوص کسی سازش کی نذر ہو چکا تھا، اور میں بےبس تھا، اتنا بےبس جتنا شاید ایک بےگناہ قیدی اپنے جرم کی وضاحت نہ دے سکنے پر ہوتا ہے۔
تخت و تاج کی قیمت
پرانے زمانے کی بات ہے، جب سلطنتِ آریہ اپنی شان و شوکت میں بے مثال تھی۔ بادشاہ ارمانوس اپنی بہادری اور عقل مندی کے باعث عوام میں بے حد مقبول تھا، لیکن اُس کی کامیابیوں نے کچھ درباریوں کے دل میں حسد کی آگ بھڑکا دی تھی۔ خاص طور پر اُس کے قریبی دوست اور مشیر، مرادس، جو درحقیقت اُس کے خلاف ایک سازش بُن رہا تھا۔
مرادس جانتا تھا کہ عوام ارمانوس سے بے حد محبت کرتے ہیں، اس لیے اُسے سیدھے طریقے سے تخت سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اُس نے خفیہ طور پر کچھ بااثر سرداروں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اُنہیں یقین دلایا کہ اگر ارمانوس کی حکومت یوں ہی چلتی رہی تو سلطنت میں شخصی حکمرانی کا راج ہوگا اور وہ سب بے اختیار ہو جائیں گے۔
ایک دن، جب بادشاہ ارمانوس فتح کی خوشخبری سنانے کے لیے دربار میں داخل ہوا، مرادس اور اُس کے ساتھیوں نے اُس پر اچانک حملہ کر دیا۔ ارمانوس نے اپنی آخری سانسوں میں مرادس کی طرف دیکھا اور کہا، "کیا تم بھی، مرادس؟" پھر وہ زمین پر گر پڑا، اور سلطنت کی فضا سوگوار ہو گئی۔
عوام نے جب اپنے محبوب بادشاہ کی المناک موت کے بارے میں سنا تو غم و غصے میں بھر گئے۔ مرادس نے دربار میں اپنی تقریر کے ذریعے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اُسی وقت ارمانوس کا سب سے وفادار جرنیل، زینوس، آگے بڑھا اور بادشاہ کی خون میں لت پت چادر عوام کے سامنے لہرا دی۔ "یہ دیکھو! تمہارے محبوب بادشاہ کے خون کے دھبے! یہ اُس کی محبت کی قیمت ہے جو اُس نے اپنی رعایا کے لیے چکائی!" زینوس کی آواز گونجی۔
یہ دیکھ کر سلطنت میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ عوام نے مرادس اور اُس کے ساتھیوں کو ظلم کی سزا دینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جنگ ہوئی، اور بالآخر ظالموں کو عبرت ناک انجام ملا۔ لیکن تختِ آریہ ہمیشہ کے لیے خون سے رنگین ہو گیا۔
یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ طاقت اور سازش کی راہوں میں وفاداری اور اعتماد کی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔میں دروازے سے باہر نکلا، اور پیچھے مڑ کر دیکھا—مگر دروازہ بند ہو چکا تھا، ہمیشہ کے لیے۔
تخت و تاج کی قیمت
پرانے زمانے کی بات ہے، جب سلطنتِ آریہ اپنی شان و شوکت میں بے مثال تھی۔ بادشاہ ارمانوس اپنی بہادری اور عقل مندی کے باعث عوام میں بے حد مقبول تھا، لیکن اُس کی کامیابیوں نے کچھ درباریوں کے دل میں حسد کی آگ بھڑکا دی تھی۔ خاص طور پر اُس کے قریبی دوست اور مشیر، مرادس، جو درحقیقت اُس کے خلاف ایک سازش بُن رہا تھا۔
مرادس جانتا تھا کہ عوام ارمانوس سے بے حد محبت کرتے ہیں، اس لیے اُسے سیدھے طریقے سے تخت سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اُس نے خفیہ طور پر کچھ بااثر سرداروں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اُنہیں یقین دلایا کہ اگر ارمانوس کی حکومت یوں ہی چلتی رہی تو سلطنت میں شخصی حکمرانی کا راج ہوگا اور وہ سب بے اختیار ہو جائیں گے۔
ایک دن، جب بادشاہ ارمانوس فتح کی خوشخبری سنانے کے لیے دربار میں داخل ہوا، مرادس اور اُس کے ساتھیوں نے اُس پر اچانک حملہ کر دیا۔ ارمانوس نے اپنی آخری سانسوں میں مرادس کی طرف دیکھا اور کہا، "کیا تم بھی، مرادس؟" پھر وہ زمین پر گر پڑا، اور سلطنت کی فضا سوگوار ہو گئی۔
عوام نے جب اپنے محبوب بادشاہ کی المناک موت کے بارے میں سنا تو غم و غصے میں بھر گئے۔ مرادس نے دربار میں اپنی تقریر کے ذریعے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر اُسی وقت ارمانوس کا سب سے وفادار جرنیل، زینوس، آگے بڑھا اور بادشاہ کی خون میں لت پت چادر عوام کے سامنے لہرا دی۔ "یہ دیکھو! تمہارے محبوب بادشاہ کے خون کے دھبے! یہ اُس کی محبت کی قیمت ہے جو اُس نے اپنی رعایا کے لیے چکائی!" زینوس کی آواز گونجی۔
یہ دیکھ کر سلطنت میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ عوام نے مرادس اور اُس کے ساتھیوں کو ظلم کی سزا دینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جنگ ہوئی، اور بالآخر ظالموں کو عبرت ناک انجام ملا۔ لیکن تختِ آریہ ہمیشہ کے لیے خون سے رنگین ہو گیا۔
یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ طاقت اور سازش کی راہوں میں وفاداری اور اعتماد کی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
سود کا سایہ
پرانے وقتوں کی بات ہے، جب شہرِ شاہان تجارت اور عدل و انصاف کے لیے مشہور تھا۔ وہیں ایک دیانت دار تاجر، نعمان، اپنی ایمانداری اور سخاوت کے باعث شہر بھر میں مشہور تھا۔ لیکن اس کی بدقسمتی کہ ایک دن اس کا قریبی دوست، ریحان، مالی مشکلات میں گھر گیا اور اسے بڑی رقم درکار تھی۔
ریحان نے اپنے دوست نعمان سے مدد مانگی، مگر اس وقت نعمان کے پاس رقم دستیاب نہ تھی۔ مجبوراً، وہ شہر کے مشہور سود خور، ظہیرالدین، کے پاس گیا جو اپنی سخت شرائط اور بے رحمانہ رویے کے لیے جانا جاتا تھا۔
ظہیرالدین نے رقم دینے پر آمادگی ظاہر کی مگر شرط رکھی کہ اگر مقررہ وقت پر قرض واپس نہ کیا گیا تو وہ نعمان کے جسم سے ایک پاؤنڈ گوشت کاٹنے کا حق رکھے گا۔ نعمان، جو اپنے دوست کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا، اس شرط پر راضی ہو گیا اور قرض لے لیا۔
وقت گزرتا گیا، مگر ریحان قرض واپس نہ کر سکا، اور مقررہ دن آ پہنچا۔ ظہیرالدین عدالت پہنچا اور قاضی کے سامنے اپنا حق جتانے لگا۔ قاضی نے جب معاہدہ دیکھا تو معاملہ پیچیدہ نظر آیا۔ ظہیرالدین بضد تھا کہ اُسے اپنے حق کے مطابق گوشت دیا جائے۔
اچانک، عدالت میں ایک باپردہ دانشمند خاتون، زینب، نے مداخلت کی۔ وہ ایک مشہور عالم اور قاضی کی شاگرد تھی۔ اس نے ظہیرالدین سے کہا، "تمہیں اپنے معاہدے کے مطابق صرف گوشت لینے کا حق ہے، مگر اگر اس دوران ایک قطرہ بھی خون بہا، تو یہ تمہارے خلاف جرم ہوگا۔"
یہ سن کر ظہیرالدین پریشان ہو گیا، کیونکہ خون بہائے بغیر گوشت نکالنا ناممکن تھا۔ یوں قاضی نے فیصلہ سنایا کہ چونکہ شرط کے مطابق خون بہانا شامل نہیں تھا، ظہیرالدین کا دعویٰ باطل ہے، اور نعمان کو آزاد کر دیا گیا۔
ظہیرالدین کو اس کے لالچ کی سزا ملی، جبکہ نعمان اور ریحان نے اپنی دوستی کی قدر کی۔ یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ انصاف اور حکمت ہمیشہ ظلم و جبر پر غالب آتے ہیں۔
"بادشاہ لِیر – ایک المناک کہانی"
بادشاہ لیر برطانیہ کا معمر حکمران تھا، جو اپنی سلطنت کو اپنی تین بیٹیوں—گونریل، ریگن، اور کورڈیلیا—میں تقسیم کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے لیے اس نے ایک عجیب شرط رکھی: جو بیٹی اسے سب سے زیادہ محبت کے الفاظ میں یقین دلا سکتی، وہ سب سے زیادہ حصہ پائے گی۔
بڑی بیٹی گونریل اور درمیانی بیٹی ریگن نے چاپلوسی سے بھری میٹھی باتوں سے بادشاہ کو خوش کر دیا، جبکہ سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ وفادار بیٹی، کورڈیلیا، نے صرف سچ بولا کہ وہ اپنے باپ سے اسی طرح محبت کرتی ہے جیسے ایک بیٹی کو کرنی چاہیے۔ بادشاہ کو یہ سادگی ناپسند آئی، اور اس نے غصے میں آکر کورڈیلیا کو جائیداد سے محروم کر کے جلاوطن کر دیا۔
بادشاہ نے اپنی سلطنت گونریل اور ریگن میں تقسیم کر دی، لیکن جلد ہی دونوں بیٹیوں نے اسے نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور بے عزتی کے ساتھ محل سے نکال دیا۔ وہ طوفانی رات میں تنہا، پاگلوں کی طرح بھٹکنے لگا۔ اس کا ایک وفادار نوکر، کینٹ، جو بھیس بدل کر اس کی حفاظت کر رہا تھا، اور ایک نادار فلسفی، جو درحقیقت اس کا بیوقوف درباری تھا، اس کے ہمراہ رہے۔
دوسری طرف، کورڈیلیا، جو اب فرانس کی ملکہ بن چکی تھی، اپنے باپ کی بدحالی کا سن کر فوج لے کر واپس آئی، لیکن بدقسمتی سے وہ شکست کھا گئی، اور اسے قید کر دیا گیا۔ لیر کو آخر کار اپنی غلطی کا احساس ہوا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ کورڈیلیا کو قتل کر دیا گیا، اور دکھ اور صدمے سے بادشاہ لیر بھی جان کی بازی ہار گیا۔
یہ کہانی طاقت، چاپلوسی، اندھے غرور اور حقیقی محبت کے درمیان کشمکش کو بیان کرتی ہے۔ King Lear ہمیں سکھاتا ہے کہ کبھی کبھی حقیقت تلخ ہوتی ہے، اور سچائی کو پہچاننے میں دیر ہو سکتی ہے، لیکن جب تک سچ کا ادراک ہوتا ہے، بہت کچھ کھو چکا ہوتا ہے۔
"میکبیتھ – طاقت کا خونی انجام"
میکبیتھ، اسکاٹ لینڈ کا ایک بہادر جرنیل تھا، جو جنگ میں شاندار فتح حاصل کر کے بادشاہ ڈنکن کا پسندیدہ بن چکا تھا۔ ایک دن، جب وہ اپنے دوست بنکو کے ساتھ جنگ سے واپس لوٹ رہا تھا، تین چڑیلیں اس کے سامنے آئیں اور پیش گوئی کی کہ وہ ایک دن اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ بنے گا، جبکہ بنکو کی نسل سے بادشاہ پیدا ہوں گے۔
یہ پیش گوئی میکبیتھ کے دل میں اقتدار کی بھوک پیدا کر دیتی ہے، اور اس کی بیوی، لیڈی میکبیتھ، اسے بادشاہ ڈنکن کو قتل کرنے پر اکساتی ہے۔ میکبیتھ، اپنی بیوی کے دباؤ میں آ کر، رات کے اندھیرے میں بادشاہ کو قتل کر دیتا ہے اور خود تخت پر قابض ہو جاتا ہے۔
لیکن یہ قتل اس کے اندر خوف اور بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ بنکو اور اس کے بیٹے اس کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، چنانچہ وہ بنکو کو بھی قتل کروا دیتا ہے، مگر اس کا بیٹا فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
میکبیتھ کا ظلم بڑھتا جاتا ہے، اور وہ ایک کے بعد ایک دشمن کو ختم کرتا جاتا ہے۔ اس کی بیوی، جو پہلے اسے قتل پر اکسا رہی تھی، اب احساسِ جرم میں پاگل ہونے لگتی ہے اور آخرکار خودکشی کر لیتی ہے۔
دوسری طرف، بادشاہ ڈنکن کا بیٹا، میلکم، انگلینڈ میں فوج جمع کر کے میکبیتھ پر حملہ کر دیتا ہے۔ میکبیتھ، جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، آخرکار میلکم کے جنرل، میکڈف، کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، کیونکہ ایک اور پیش گوئی کے مطابق وہ صرف اُس شخص کے ہاتھوں مر سکتا تھا جو عورت کے بطن سے "عام طریقے" سے پیدا نہ ہوا ہو—اور میکڈف قبل از وقت آپریشن کے ذریعے پیدا ہوا تھا۔
یوں ظلم، دھوکہ اور طاقت کی ہوس میں لت پت میکبیتھ کا خونی انجام ہوتا ہے، اور میلکم، جائز بادشاہ بن کر، اسکاٹ لینڈ کو انصاف اور امن فراہم کرتا ہے۔

Good work
ReplyDeleteBeautiful and engaging as well👏
ReplyDeletePost a Comment